اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سوشل میڈیا پر محمد غمیرہ اور عبدالسلام عکو کی تصاویر سامنے آنے کے بعد شامی عوام میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ غمیرہ کو لاذقیہ کے نواح میں واقع الحفہ پولیس مرکز سے چند روز کی حراست کے بعد، جبکہ عبدالسلام عکو کو حماہ کی مرکزی جیل میں ایک سال قید رہنے کے بعد رہا کیا گیا۔ دونوں کی جسمانی حالت انتہائی خراب تھی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، دورانِ حراست تشدد کے باعث غمیرہ کی طبیعت بگڑنے پر اسے تشرین یونیورسٹی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کیا گیا۔
تشدد کے واقعات کی باضابطہ تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کے مطالبات میں اضافے کے بعد لاذقیہ کے داخلی سلامتی کے کمانڈر عبدالعزیز ہلال الاحمد نے غمیرہ کے معاملے اور اس کی حراست کے حالات کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیرِ حراست افراد کے حقوق، صحت اور انسانی وقار کا تحفظ ناقابلِ نظرانداز ذمہ داری ہے۔
سکیورٹی حکام نے اسپتال پہنچ کر غمیرہ کی حالت کا جائزہ بھی لیا اور اس کی ضروری ادویات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ مقامی حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشدد کے واقعات کے بار بار سامنے آنے اور بعض تحقیقات کے نتیجہ خیز نہ ہونے پر تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن محمد العبداللہ نے کہا کہ محض تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان اب عوام کے لیے کافی نہیں، بلکہ اس کے نتائج اور ذمہ داروں کے خلاف عدالتی کارروائی بھی سامنے آنی چاہیے۔
بعض قانونی اور پیشہ ورانہ حلقوں نے بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے شکایات کے مؤثر نظام، قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور تشدد کے کلچر میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق سابق حکومت کے دور سے چلی آنے والی تشدد کی روش کو ختم کرنا اور قانون کی حکمرانی مضبوط بنانا ضروری ہے، جبکہ کسی بھی اہلکار کی جانب سے مارپیٹ، تشدد یا غیر قانونی گرفتاری کی صورت میں اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ